اتباع رسول ﷺ
اقتباس نورالعرفان جنوری 2024 - (قاری محمد فیض الرسول سدیدی)
کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
یہ شعر عاشق ِ رسول حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا ہے۔اس میں انہوں نے قرآنی سورت آل عمران آیت نمبر ۳۱ کا مفہوم و مطلب بیان کیا ہے۔ ترجمہ:’’(اے محبوب) آپ فرمائیے (انہیں کہ)اگر تم (واقعی) محبت کرتے ہو اللہ سے تو میری پیروی کرو(تب)محبت فرمانے لگے گا تم سے اللہ اور بخش دے گا تمہارے لیے تمہارے گناہ اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے‘‘۔ جب یہود کو اسلام کی دعوت دی گئی تو انہوں نے یہ کہہ کر اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ ہم تو پہلے ہی محبت الٰہی سے سرشار ہیں اور اس کے لاڈلے فرزند ہیں۔ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ کسی نئے کی اُمت میں داخل ہونے کی زحمت گوارا کریں۔ اس آیت مبارکہ میں انہیں تنبیہ فرمائی جا رہی ہے کہ محبت الٰہی کا دعویٰ بغیر دلیل معتبر نہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کہ اس برگزیدہ رسول کی اتباع و اطاعت کرو۔ اگر تم نے دل و جان سے اس رسول اکرمﷺ کی اتباع کی تو تمہارا دعویٰ محبت بھی درست تسلیم کر لیا جائیگا۔اور اس کے علاوہ اللہ کریم کی ایک سب سے بڑی نعمت سے بھی سرفراز کیے جائو گے یعنی تمہیں محبوب الٰہی ہونے کا شرف بخشا جائے گا۔ حضرت محمد مصطفیٰ سرکار دو عالم نور مجسم ﷺ کی عظمت و شان اور جلالتِ قدر کا کیا کہنا کہ جن کی غلامی یہودیوں ایسی راندۂ درگاہ اور ذلیل قوم کو بھی اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا سکتی ہے۔تو اگر اُمت سرور کائنات کے سانچے میں اپنی سیرت کو ڈھال لے تو کیا یہ محبوبیت کی خلعت فاخرہ سے نہیں نوازی جائے گی؟چنانچہ اس آیت مبارکہ کے مطابق اگر مسلمان تاجدارِ انبیاء، حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اتباع کریں تو اللہ تعالیٰ وعدہ فرما رہا ہے کہ میں تمہیں اپنا محبوب اور پیارا بنا لوں گا۔ اور جب تم میرے دوست اور حبیب بن جائو گے تو میری تمام مخلوق تمہارے ماتحت ہو جائے گی ۔حتیٰ کہ لوح و قلم میں فیصلے بھی تمہاری مرضی سے تحریر کیے جائیں گے۔؎
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
حضور پرنور ﷺ کا کلمہ پڑھنے کے بعد جب آپ کا کوئی غلام فرائض اسلام کی ادائیگی کے علاوہ نفلی عبادات میں آپ کی پیروی و اتباع کرے تو اس بلند مقام پر فائز ہو جاتا ہے،جس کی وضاحت آقائے دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمائی۔
لَا یَزَالُ الْعَبْدُ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اَحْبَبْتُہٗ فَاِذَآ اَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَ بَصَرَہُ الَّذِیْ یُبْصِرُبِہٖ (رواہ البخاری)
ترجمہ:’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ بندہ نفلی عبادت سے میرے قریب ہوتا رہتا ہے۔یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا کان ہو جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور میں ہی اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔(بخاری)
لہٰذا غلامانِ مصطفی ﷺ کو نہایت بلند مقام و مرتبہ حاصل ہو جاتا ہے۔چنانچہ دریائے نیل جو ہمیشہ ایک انسانی قربانی لے کر نئے سال سے جاری ہوا کرتا تھا۔حضرت عمرؓ کا نامہ مبارک اندر ڈالنے سے ایسا جاری ہوا کہ آج تک اس کا پانی خشک نہیں ہوا۔
آپ ہی نے جب مدینہ میں زلزلہ آیا تو زمین پر اپنا کوڑا مار کر کہا کہ اگر عمر تیرے اوپر انصاف سے حکومت کر رہا ہے تو ساکن ہو جا۔اس کے بعد آج تک مدینہ میں دوبارہ زلزلہ نہیں آیا۔
شیخ سعدی شیرازی نے اپنی مشہور کتاب بوستان میں لکھا ہے کہ ایک بزرگ نے دوسرے بزرگ کو دیکھا کہ ہاتھ میں سانپ کا کوڑا لیے شیر پر سوار ہیں تو پہلے بزرگ اس منظر سے حیران ہونے لگے تو دوسرے نے فرمایا۔فارسی شعر کا ترجمہ:
’’ کہ تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے اگر بچے گا تو کائنات کی کوئی چیز تیری نافرمانی نہیں کرے گی۔ہمیں چاہیے کہ اُسوہ رسول ﷺ کی روشنی میں اپنی زندگی ڈھال لیں تو پھر اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ انسان کو اپنا پیارااور حضورﷺ کا محبوب بنا دے گا‘‘